بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں نے 1996 میں ایسا خوفناک سفر کیا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
پردیپ سینی اور وجے سینی نے برطانیہ پہنچنے کے لیے برٹش ایئرویز کے بوئنگ 747 طیارے کے پہیوں کے خانے (وہیل بے) میں چھپ کر سفر کرنے کی کوشش کی، یہ سفر نہ صرف غیر قانونی بلکہ ایک بھائی کیلیے جان لیوا بھی ثابت ہوا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بوئنگ 747 کے پہیوں کے خانے میں چھپ کر سفر کرنے والے دو بھائیوں کی کہانی 1996 میں پیش آئی، جہاں بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وجے سائینی اور پردیپ سائینی نے برطانیہ جانے کے لیے یہ خطرناک سفر کیا۔
اس اندوہناک واقعے میں وجے ہلاک ہوگیا جبکہ اس کا بھائی پردیپ شدید سردی اور کم آکسیجن میں بھی معجزانہ طور پر محفوظ رہا اور بعد میں وہ برطانیہ میں ہی مقیم ہوگیا۔
دونوں بھائیوں نے تقریباً 40 ہزار فٹ کی بلندی پر جہاں آکسیجن نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید سردی میں 10 گھنٹے کا سفر برداشت کیا۔
طیارے کے طاقتور انجنوں کی گھن گرج نے نہ صرف آپس میں بات چیت کا ہر امکان ختم کردیا تھا بلکہ منجمد کردینے والی سردی نے ان کے جسمانی نظام کو مفلوج کرنا شروع کردیا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت یاد آیا ہے جب حال ہی میں ایک 13 سالہ افغان لڑکا دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اُس وقت دریافت ہوا، جب وہ کابل سے دہلی آنے والی کام ایئر کی پرواز کے لینڈنگ گیئر میں چھپ کر سفر کر رہا تھا۔ تاہم، ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اگرچہ نایاب ہیں مگر اس سے قبل بھی متعدد بار پیش آچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 1996میں دونوں بھائیوں کو بھارت میں ایک سکھ علیحدگی پسند تنظیم سے مبینہ تعلق کے الزام کا سامنا تھا، جس کے بعد وہ گرفتاری سے بچنے کیلیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
اس سلسلے میں انہوں نے ایک انسانی اسمگلر سے رابطہ کیا، جس نے 150 پاؤنڈ کے عوض انہیں برطانیہ پہنچانے کا وعدہ کیا تاہم اسمگلر نے انہیں معلومات دیں کہ وہیل بے سے سامان والے حصے تک رسائی ممکن ہے، جو بعد ازاں مہلک اور غلط ثابت ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق اس ہولناک سفر کے دوران وجے سائینی جان کی بازی ہار گیا، لینڈنگ کے وقت جب طیارے کے پہیے کھولے گئے تو وجے سینی کی لاش تقریباً دو ہزار فٹ کی بلندی سے زمین پر گر گئی، جسے پانچ روز بعد ایک ویران مقام سے برآمد کیا گیا۔
اس کے برعکس دوسرا بھائی پردیپ سائینی معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا، تاہم اسے شدید تشویشناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں طویل قانونی جدوجہد کے بعد برطانوی حکام نے اسے برطانیہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی برطانیہ میں طیاروں میں چھپ کر آنے والوں کے ہلاک ہونے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سال 2001میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ محمد ایاز کی لاش ہیتھرو ایئر پورٹ کے قریب ایک ہوم بیس نامی اسٹور کے کار پارک سے ملی تھی۔
اس سے چار سال قبل ایک اور شخص کی لاش اسی سٹور کے قریب گیس کی پائپ لائن پر سے ملی تھی۔ یہ افراد لینڈنگ گیئر کے کھلنے سے طیارے سے گر جاتے ہیں۔
















